اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ الیوم السابع کےمطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اراکین کے درمیان اپنے خطاب کے دوران شدت پسندی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی کا پروگرام پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ شدت پسندی کسی دین، قومیت، زبان اور نسل سے مربوط نہیں ہے اوراس شدت پسندی اور دہشتگردی کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ ہمیں یہ چیز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دہشتگرد گروپ فقط تشدد آمیز اقدامات انجام دیتے ہیں۔ لہذا اگرہم سیاست کے ذریعے اس وحشی دہشتگردی کا جواب نہیں دیں گے تو ہم سب کو نقصان پہنچے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدت پسندی کے خلاف جنگ کے لیے اقوام متحدہ کے منصوبے کہ جو سترسے زائد نکات پرمشتمل ہے،میں ذکر کیا ہے کہ دنیا کے ممالک کو شدت پسندی کے مقابلے میں فقط ردعمل پراکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی ایجاد سے پہلے اس کی روک تھام کے عوامل پرکام کرنا چاہیے۔
بانکی مون نے مزید کہا ہےکہ عالمی برادری کو متحد ہوکر شدت پسندی کےعوامل اوراسباب کے علاج کے لیے عملی اقدام انجام دینا چاہیے اوراگر ہم ایک لمبے عرصے تک اس مشکل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ایک مخصوص روش کے تحت اس کے اسباب پرتوجہ دینی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲